مینگلور،30؍جولائی (ایس او نیوز؍ایجنسی) حجاب پر پابندی، مسلم کاروباریوں کے بائیکاٹ اور ایک کے بعد ایک تین نوجوانوں کے قتل کے بعد ساحلی کرناٹکا کا فرقہ وارانہ ماحول درہم برہم ہو گیا ہے۔ معاملہ 20 جولائی کو شروع ہوا، جب 18 سالہ نوجوان بی مسعود پر کچھ لوگوں کے ایک گروہ نے حملہ کیا، بری طرح سے زخمی مسعود نے 21 جولائی کو دم توڑ دیا۔ پولیس نے قتل کے الزام میں 8 لوگوں کو گرفتار کر لیا۔
اس کے بعد 26 جولائی کو بائیک پر سوار کچھ حملہ آوروں نے بیلاری قصبہ میں بی جے پی کے کارکن 31 سالہ پروین کمار نیتاروں پر حملہ کر کے اسے قتل کر دیا۔ اس معاملہ میں پولیس نے دو ملزمان کو گرفتار کیا ہے اور 20 سے زیادہ لوگوں سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔ اس کے بعد گزشتہ شب سورتکل میں 23 سالہ فاضل کو کچھ لوگوں کے ایک گروہ نے قتل کر دیا۔ اس واردات کو کپڑے کی دکان کے سامنے انجام دیا گیا اور اس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہیں۔
بتایا جارہا ہے کہ یہ تینوں قتل انتقامی جذبہ کے تحت کئے گئے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مسعود کے قتل کے بعد پروین کا قتل کیا گیا۔ دراصل پروین جیل میں قید مسعود کے قتل کے ملزمان کی مدد کر رہا تھا، اس لئے اسے نشانہ بنایا گیا۔ وزیر اعلیٰ بسوراج بومئی نے پروین کے اہل خانہ سے ملاقات کی اور حکومت کی جانب سے 25 لاکھ کا امدادی چیک جاری کر دیا گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ پارٹی کی جانب سے 25 لاکھ روپے علیحدہ سے بھی ادا کئے گئے ہیں۔ وہیں مسعود کے اہل خانہ کی تاحال کوئی مالی اعانت نہیں کی گئی ہے۔ اہل خانہ کا کہنا ہے کہ ضلع انتظامیہ نے میڈیکل بلوں کی ادائیگی کا وعدہ کیا تھا لیکن اسے بھی پورا نہیں کیا گیا ہے۔
سابق وزیر اور کانگریس کے رکن اسمبلی یو ٹی قادر نے کہا کہ حکمراں بی جے پی حکومت کو غیر جانبدارانہ طور پر انصاف کرنا چاہئے اور قصورواروں کو سزا دی جانی چاہئے۔ قادر نے کہا کہ وزیر اعلیٰ بومئی مسعود کے اہل خانہ سے ملاقات کے لئے نہیں پہنچے، جبکہ قتل کے وقت وہ منگلورو کے دورے پر تھے۔ انہوں نے کہا کہ جب لوگوں کو حکومت پر بھروسہ نہیں ہوتا تو وہ قانون کو اپنے ہاتھ میں لینا شروع کر دیتے ہیں۔
ادھر، منگلورو کے پولیس کمشنر این ششی کمار نے کہا کہ فاضل کے قتل کا مقصد تاحال معلوم نہیں چل سکا ہے۔ ملزمان کی تلاش شروع کر دی گئی ہے۔ انہوں نے عوام سے افواہوں پر توجہ نہ دینے اور امن برقرار رکھنے کی اپیل کی۔ خیال رہے کہ فاضل کے قتل کے بعد منگلورو ضلع کا ماحول کشیدہ ہے اور پولیس نے کسی بھی ناخوشگوار واقعہ کو ٹالنے کے لئے مینگلور کے کئی مضافاتی علاقوں میں دفعہ 144 نافذ کر دی ہے۔